ابنا: تيونس کي النہضہ پارٹي کے سربراہ راشد العنوشي نے اسلام و جمہوريت نامي ريسرچ سينٹر ميں سيکولرزم اور دين و حکومت کے درميان رابطے کے زيرعنوان منعقدہ ايک سمينار سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ حکومت سے دين کي جدائي کا مطلب يہ ہے کہ ملک کو چند مافيائي گروہوں کے ہاتھوں ميں دے ديا جائے جيسا کہ بعض يورپي ملکو ں ميں ہورہا ہے -
انہوں نے کہا کہ سياست سے دين کي جدائي کي بات ايک مافيائي بدعت ہے - تيونس کي النہضہ پارٹي کے سربراہ نے کہاکہ انسانوں کي زندگي ميں اخلاق اور اقدار کي اہميت کے پيش نظر دين و مذہب انسان کي بنيادي ضرورت ہے -
راشد الغنوشي نے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ حکومت سے دين کي جدائي ايک خطرناک امر ہے اور ممکن ہے کہ اس سے لاقانونيت اور بے نظمي پيدا ہوجائے اور معاشرے پر غلط اثرات مرتب ہوں کہا کہ مذہبي اور سياسي اقدار کي الگ الگ تشريح ہوني چاہئے –
الغنوشي نے حکومت سے دين کي جدائي کے نظريئے کو مسترد کرتے ہوئے کہاکہ اسلام نے اپنے وجود ميں آنے سے لے کر اب تک مذہب و حکومت اور مذہب و سياست کے درميان رابطہ پيدا کيا ہے - انہوں نے کہا کہ معاشرتي زندگي سے دين کو الگ کرنے کا اسلام ميں کوئي مفہوم نہيں ہے اور مسلمان ہميشہ ديني تعليمات کے ہي زير سايہ رہے ہيں بنابريں انہيں چاہئے کہ وہ اپني معاشرتي زندگي ميں اسلامي تعليمات اور اقدار کو ہي اپنائيں-.......
/169